ہر
281 Misre
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- ہر ایک ذرہ غیرت صد آفتاب ہے
- ہر تار زلف کو نگہ سرمہ سا کہوں
- زبان ہر سر مو حال دل پر سیدنی جانے
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن
- ہر طرح ہوں میں از خود رمیدہ
- گداز ہر تمنا آبیار صد تمنا ہے
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- عنایت نامہ ہاے اہل دنیا ہر زہ عنواں ہیں
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- اسدؔ قدرت سے حیدر کی ہوئی ہر گبر و ترسا کو
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- پشت دست عجزیاں ہر برگ نخل طور ہے
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتشبار ہے
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- ہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
- عقد وصل دخت رز انگور کا ہر دانہ تھا
- انتظار جلوہ کاکل میں ہر شمشاد باغ
- ہے غلاف دفچۂ خرشید ہر یک گرد باد
- ریشے سے ہر تخم کا دلو اندرون چاہ ہے
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- عالم آب گداز جو ہر افسانہ ہم
- ہر گرد باد حلقۂ فتراک بے خودی
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- گر نہیں پاتا درون خانہ ہر بے گانہ جا
- چونکہ بالاے ہوس پر ہر قبا کوتاہ ہے
- یک نفس ہر یک نفس جاتا ہے قسط عمر میں
- ہر دانۂ اشک کو گہر کر
- ہر چند امید دور تر ہو
- شایستۂ گدائی ہر در نہیں ہوں میں
- جادۂ ہر دشت تار دامن قاتل ہوا
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- فزوں ہوتا ہے ہر دم جوش خونباری تماشا ہے
- وصل ہر رنگ جنوں کسوت رسوائی ہے
- چشم تحیر آغوش مخمور ہر ادا ہے
- ہر نالۂ اسدؔ ہے مضمون داد خواہی
- کہ طوق قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- ہر ذرہ چشمک نگہ ناز ہے مجھے
- ہر جزو آشیاں پر پرواز ہے مجھے
- ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
- کہ یاں ہر یک حباب آسا شکست آمادہ آتا ہے
- زبس ہر شمع یاں آئینۂ حیرت پرستی ہے
- ہر مو بدن پہ شہپر پرواز ہے مجھے
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- جوں ماہی بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ہر سر انگشت نوک خامۂ فرسودہ ہے
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- نقش ہر ذرہ سویداے بیاباں نکلا
- ہر چند بہ میدان ہوس تاختنی ہے
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
- ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- زباں ہر چند ہو جاوے زبانہ
- خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
- اشارت فہم کو ہر ناخن بریدہ ابرو تھا
- ہر شکست قیمت دل میں صداے خندہ ہے
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا
- ہر اشک چشم سے یک حلقۂ زنجیر بڑھتا ہے
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- ہر چند بمقدار دل تنگ نکالوں
- کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- کہ ہر یک گرد باد گلستاں گرداب ہوجاوے
- اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن
- ہوا ہر خلوت و جلوت سے حاصل ذوق تنہائی
- اہل ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
- پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کی
- ہے جو آبی پیرہن ہر موج رود نیل کی
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- آئینہ خانہ ز سیل اشک ہر ویرانہ تھا
- ہر ذرہ خاک عرض تمناے رفتگاں
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرد اب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
- ریگ روان و ہر تپش درس تسلی شعاع
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- ہر بت خرشید طلعت آفتاب بام ہے
- ہر ذرہ بہ کیفیت ساغر نظر آوے
- ہر غنچہ اسدؔ بارگہ شوکت گل ہے
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- در ہر نفس بقدر نفس ہے قبا بلند
- ہر قطرۂ شربت مجھے اشک شکری ہے
- ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بال پری ہے
- جوں چشم باز ماندہ ہے ہر یک بسوے دل
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- ہر سنگ وحشت ہے صدف گوہر شکست
- دل دیوانہ کہ دارستۂ ہر مذہب تھا
- ہر ذرہ یک دل پاک آئینہ خانہ بے خاک
- کہ موج آب ہے ہر ایک چین پیشانی
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- ہر بیاباں یک بیاباں حسرت تعمیر ہے
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- ہر چند خط سبز و زمرد رقمی ہے
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سربسر انگشت
- جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
- چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکست
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکن
- ہر ایک ذرۂ عاشق ہے آفتاب پرست
- کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
- ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
- مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- ہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے
- ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا
- رشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا
- ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- نقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- ہر شکست قیمت دل میں صداۓ خندہ ہے
- ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
- چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
- ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا
- ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدم
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- ہر چند ہر ایک شئے میں تُو ہے
- ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
- گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- پایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشت
- ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
- موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
- ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
- ہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے
- دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
- بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
- ہر غنچہ كا گل ہونا آغوش کشائی ہے
- واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
- کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- ہر چند جاں گدازی قہر و عتاب ہے
- ہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
- ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے
- آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرف
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
- ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
- ہر سلح شور انگلستاں کا
- تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- ہر کر اپنج روز نوبت اوست
- رم آہو کو ہے ہر ذرے کی چشمک میں کمیں
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- ہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں
- نقش ہر گام دو عالم صفہاں زیر نگیں
- کہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں
- ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت
- ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- قرب ہر روزہ بر سبیل دوام
- جس کا ہر فعل صورت اعجاز
- جس کا ہر قول معنی الہام
- فوج کا ہر پیادہ ہے فرزیں
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- ہر دو سوخانۂ زنجیر نگہ کا بازار
- کف ہر خاک بگر دوں شدہ قمری پرواز
- دام ہر کاغذ آتش زدہ طاؤس شکار
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- جلوۂ تمثال ہے ہر ذرہ نیرنگ سواد
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار
- نعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار
- ہر نفس راہ میں ٹوٹے نفس لیل و نہار
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- موتیوں کا ہر طرف زیور کھلا
- لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک
- یعنی ہر بار صورت کاغذ باد
- ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- ہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
- ہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا
- ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
- ہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- می برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست
- از دل ہر درد مندی جوش بیتابی زدن
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں