ہجوم
28 Misre
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم
- ہجوم ضبط فغاں سے مری زبان خموش
- طلسم مستی دل آں سوے ہجوم سر شک
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- ہجوم گریہ سوے دل خوشا سرمایۂ طوفاں
- ہجوم سادہ لوحی پنبۂ گوش حریفاں ہے
- یاں ہجوم عجز سے تا سجدہ ہے جولان عجز
- کیفیت ہجوم تمنا رسا اسدؔ
- ہجوم مژدۂ دیدار و پرواز تماشا ہا
- واں ہجوم نغمہ ہاے ساز عشرت تھا اسدؔ
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- کہ ہے آبادی صحرا ہجوم خانہ بردوشاں
- حیرت ہجوم لذت غلطانیٔ تپش
- سر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے
- وفور بلا ہے ہجوم وفا ہے
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
- ہجوم مژدۂ دیدار و پرداز تماشا ہا
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- خانۂ تنگ ہجوم دو جہاں کیفیت
- فلک العرش ہجوم خم دوش مزدور