ہجر
18 Misre
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- تب اماں ہجر میں دی برد لیالی نے مجھے
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ