ہاے
97 Misre
- ہلال ناخنک دیدہ ہاے اختر ہو
- پختگی ہاے کباب دل ہوئی خامی تری
- برگ ریزی ہاے گل ہے وضع زر افشاندنی
- بس کہ ہے عبرت ادیب یادگی ہاے ہوس
- تصور بہر تسکین تپیدن ہاے طفل دل
- بباغ رنگ ہاے رفتہ گلچین تماشا ہے
- مجھے شب ہاے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- نگہبان دل ہاے اغیار ہیں ہم
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- بہ سختی ہاے قید زندگی معلوم آزادی
- شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاے خارا ہے
- سحر گل ہاے نرگس چند چشم کور ملتے ہیں
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- عنایت نامہ ہاے اہل دنیا ہر زہ عنواں ہیں
- بہ تقریب نگارش ہاے سطر شعلہ باد آتش
- ہوں تصور ہاے ہمدوشی سے بدمست شراب
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- طرفہ موزدنی ہے صرف جنگ جوئی ہاے یار
- عکس گل ہاے سمن سے چشمہ ہاے باغ میں
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- بر ہوس ہاے جہاں دامن فشانی مفت ہے
- پس بہ دل ہاے و گر راحت رسانی مفت ہے
- ہیں دعا ہاے سحرگاہ سے خواہاں گل و صبح
- نیم رنگی ہاے شمع محفل خوباں سے ہے
- باز ماندن ہاے مژگاں ہے یک آغوش وداع
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- جراحت ہاے دل سے جوہر شمشیر ہے پیدا
- تماشا ہے علاج بے دماغی ہاے دل غافل
- وقف غرق عقدہ ہاے متصل تار نفس
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہاے خوں
- جنبش دل سے ہوے ہیں عقدہ ہاے کار وا
- قطرہ ہاے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- شرح بر خود غلطی ہاے تحمل تا چند
- ہواے پر فشانی برق خرمن ہاے خاطر ہے
- بلا گردان بے پروا خرامی ہاے یار آتش
- خیال سادگی ہاے تصور نقش حیرت ہے
- مفت دل و جگر خلش غمزہ ہاے ناز
- پہن گشتن ہاے دل بزم نشاط گردباد
- گریہ ہاے بیدلاں گنج شرر در آستیں
- آرزوے بوسۂ لب ہاے مے گوں ہے مجھے
- وا شگفتن ہاے دل در رہن مضموں ہے مجھے
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- جواب سنگ دلی ہاے دشمناں ہمت
- زدست شیشہ دلی ہاے دوستاں فریاد
- نہیں گرداب جز سرگشتگی ہاے طلب ہرگز
- اسدؔ تاثیر صافی ہاے حیرت جلوہ پرور ہو
- گرفتار الم ہاے زمانہ
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- ہے تماشا حیرت آباد تغافل ہاے شوق
- نفس در سینہ ہاے ہم دگر رہتا ہے پیوستہ
- فریاد اسدؔ بے نگہی ہاے بتاں سے
- بوسۂ پا انتخاب بدگمانی ہاے حسن
- حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز
- زخم ہاے کہنہ دل رکھتے ہیں جوں مردگی
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
- نہیں جز درد تسکین نکوہش ہاے بیدر داں
- اسدؔ ہنستے ہیں میرے گریہ ہاے زار پر مردم
- بے دلی ہاے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- نہیں ممکن بجولاں ہاے گردوں دخل پے بردن
- رہا پامال حسرت ہاے فرش بزم گستردن
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- تسبیح اشک ہاے زمژگاں چکیدہ ہوں
- مضراب تار ہاے گلوے بریدہ ہوں
- بنا ہے تختۂ گل ہاے یاسمیں بستر
- واں ہجوم نغمہ ہاے ساز عشرت تھا اسدؔ
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہاے بلبل زار
- بار لائی ہے دانہ ہاے سر شک
- پختگی ہاے تصور یاں خیال خام ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاے مجنوں کا
- ہے کوچہ ہاے نے میں غبار صدا بلند
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- ہے جہاں فکر کشیدن ہاے نقش روے یار
- ریزش خون وفا ہے جرعہ نوشی ہاے یار
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہاے تفتہ پر زباں
- نہیں ہے ضبط جز مشاطگی ہاے غم آرائی
- مئے کیفیت خمیازہ ہاے صبح آغوشاں
- نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
- اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
- وہ سبزہ زار ہاے مطرا کہ ہے غضب
- وہ نازنیں بتان خود آرا کہ ہاے ہاے
- طاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے
- وہ میوہ ہاے تازۂ شیریں کہ واہ واہ
- وہ بادہ ہاے ناب گوارا کہ ہاے ہاے
- تا کجا درس نثر ہاے کہن
- بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
- کس نے پایا اثر نالۂ دل ہاے حزیں
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- کہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ
- نکتہ ہاے خرد فزا لکھیے