ہاں
35 Misre
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- گھر سے نکالنا ہے اگر ہاں نکالیے
- ہوسکے کیا مدح ہاں اک نام ہے
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- ہاں نشاط آمد فصل بہاری واہ واہ
- اے شوق ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے
- ہاں کھائیو مت فریب ہستی
- ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
- ہاں کچھ نہ کچھ تلافئ مافات چاہیے
- بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
- ہوں کشمکش نزع میں ہاں جذب محبت
- ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
- ہاں اہل طلب کون سنے طعنۂ نایافت
- قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
- ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- مگر ہاں نام کو اورنگ زیبی
- ہاں یہی شاہراہ دہلی ہے
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام
- ہاں دل دردمند زمزمہ ساز
- بندگی کا ہاں عبادت نام ہے
- ہاں غزل پڑھیے سبق گر یاد ہو
- پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ہاں
- ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں
- ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- ہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طرب