ہاتھ
39 Misre
- طفلانہ ہاتھ کا ہے اشارہ زبان اشک
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- ہاتھ پر ہو ہاتھ تو درس تاسف ہی سہی
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
- ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں
- ہاتھ آیا نہیں یک دانۂ انگور ہنوز
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش
- لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
- اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
- کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلام
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- دیکھنا میرے ہاتھ میں لبریز
- ترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام
- صورت رنگ حنا ہاتھ سے دامان بہار
- جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
- سینہ چھاتی دست ہاتھ اور پا پاؤں