ہائے
98 Misre
- آئے ہیں پارہ ہائے جگر درمیان اشک
- حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوئے دل
- کرے گر فکر تعمیر خرابی ہائے دل گردوں
- عیادت ہائے طعن آلود یاراں زہر قاتل ہے
- غبار کوچہ ہائے موج ہے خاشاک ساحل ہا
- ہوے ہیں پردہ ہائے چشم عبرت جلوہ حائل ہا
- کس کو دوں یارب حساب سوزناکی ہائے دل
- اسد مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- بے دلی ہائے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- نہ رکھ چشم حصول نفع صحبت ہائے ممسک سے
- یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں
- تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
- ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
- دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
- مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے
- درکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو
- ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
- اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
- عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
- یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے
- دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے
- کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال
- ہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے
- ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہائے خوں
- جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا
- قطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
- تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
- ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مان
- گردش مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
- ز خود رفتگی ہائے حیرت سلامت
- بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
- واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
- بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
- روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
- ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے
- ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
- نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر
- گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
- زہد گردیدن ہے گرد خانہ ہائے منعماں
- بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
- گریہ ہائے بے دلاں گنج شرر در آستیں
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
- میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا
- سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
- پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس
- مجھے شب ہائے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- بہ سختی ہائے قید زندگی معلوم آزادی
- شرر در بند دام رشتۂ رگ ہائے خارا ہے
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
- ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے
- بلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش
- میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
- ہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- نکوہش مانع دیوانگی ہائے جنوں آئی
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- سادگی ہائے تمنا یعنی
- ہے صریر خامہ ریزش ہائے استقبال ناز
- سوز غم ہائے نہانی اور ہے
- یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں
- سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
- دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
- نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
- شکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا
- تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
- تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
- غم آوارگی ہائے صبا کیا
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- سوزش داغ ہائے پنہاں کا
- ماجرا دیدہ ہائے گریاں کا
- صفحہ ہائے لیالی و ایام
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے