ہا
76 Misre
- عجز دید نہا بناز و ناز رفتن ہا بچشم
- بوقت کعبہ جوئی ہا جرس کرتا ہے ناقوسی
- نگہ معمار حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی
- سخن تاریک طبعوں کا ہے اظہار کثافت ہا
- گریباں چاکی گل ہا نشان داد خواہی ہے
- بہ شغل انتظار مہو شاں در خلوت شب ہا
- سر تار نظر ہے رشتۂ تسبیح کوکب ہا
- نہ نکلے خشت مثل استنحواں بیرون قالب ہا
- رفوئے زخم کرتی ہے بہ نوک نیش عقرب ہا
- کہ ہے تہ بندی خط سبزۂ خط در تہ لب ہا
- نہیں رفتار عمر تیز رو پابند مطلب ہا
- نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ یا رب ہا
- بس کہ ہے اصل دمیدن ہا غبار
- خانماں ہا پائمال شوخی دعوی ے اسدؔ
- صاحب دل ہا وکیل حضرت اللہ ہے
- بسان جوہر آئینہ از ویرانی دل ہا
- غبار کوچہ ہائے موج ہے خاشاک ساحل ہا
- ہوے ہیں پردہ ہائے چشم عبرت جلوہ حائل ہا
- رہ خوابیدہ میں افگندنی ہے طرح منزل ہا
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- نہیں غیر از نگہ جوں نرگستاں فرش محفل ہا
- بہ نوک ناخن شمشیر کیجیے حل مشکل ہا
- دریوزۂ ساماں ہا اے بے سروسامانی
- ایجاد گریباں ہا درپردۂ عریانی
- تمثال تماشا ہا اقبال تمنا ہا
- بے گانگی خوہا موج رم آہو ہا
- آرزو ہا خار خار چین پیشانی عبث
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- چمن بالیدنی ہا از رم نخچیر ہے پیدا
- متاع زندگانی ہا بغاوت دادہ آتا ہے
- نہیں برق و شرر جز وحشت و ضبط تپیدن ہا
- باوجود مشق وحشت ہا رمیدن منع ہے
- سیر ملک حسن کر میخانہ ہا نذر خمار
- نیاز جلوہ ریزی طاقت بالیں شکستن ہا
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- نغمہ ہا وابستۂ یک عقدۂ تار نفس
- ساز وحشت رقمی ہا کہ باظہار اسدؔ
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- اسدؔ ہے طبع مجبور تمنا آفرینی ہا
- نزاکت ہے فسون دعوی طاقت شکستن ہا
- شرار سنگ انداز چراغ از چشم جستن ہا
- شرار آسا زسنگ سرمہ یکسر بار جستن ہا
- کہ تھا آئینۂ خود بے نقاب زنگ بستن ہا
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- نفس ہا بعد وصل دوست تاوان گستن ہا
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- آئینہ ہا شکستہ و تمثال ہا گرو
- ہجوم مژدۂ دیدار و پرواز تماشا ہا
- گوش ہا سیمابی و دل بے قرار نغمہ ہے
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- مژہ پوشیدنی ہا پردۂ تصویر عریاں ہے
- تماشاے گل و گلشن ہے مفت سربجیبی ہا
- صفا کب جمع ہوسکتی ہے غیر از گوشہ گبری ہا
- ہے پر افشان طپیدن ہا بہ تکلیف ہوس
- نالہ ہا حاصل اندیشہ کہ جوں کشت سپند
- خانماں ہا پائمال شوخیٔ دعوے اسدؔ
- وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔ
- حسن افسردہ دلی ہا رنگیں
- ہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- ہجوم مژدۂ دیدار و پرداز تماشا ہا
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- نگہ معمار حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی
- گداز آرزو ہا آبیار آرزو ہا ہے
- نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا
- غنچہ تا شگفتن ہا برگ عافیت معلوم
- حیرت طپیدن ہا خوں بہائے دیدن ہا
- پرواز ہا نیاز تماشائے حسن دوست
- بہ شکنج جستجوہا بہ سراب گفتگو ہا
- تگ و تاز آرزو ہا بہ فریب شادمانی
- ہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا
- طرہ ہا بس کہ گرفتار صبا ہیں شانہ
- لالہ ہا داغ برافگندہ و گل ہا بے خار
- گرد باد آئنہ فتراک دماغ دل ہا
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی