گے
56 Misre
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- چیرے ہی سے جائیں گے یہ پھوڑے
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
- وہ آویں گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔ
- تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
- روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
- یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
- خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
- جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
- میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
- کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
- وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
- کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
- ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت
- ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
- سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- کعبے میں جا بجائیں گے ناقوس
- لکھیں گے لوگ اسے خسرو ستارہ سپاہ
- گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار
- یہ نہیں ہیں گے کسو کے یار غار
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- مفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں
- آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے
- یا فقط رستہ ہمیں بتلاؤ گے
- گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف
- صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا
- دوک تکلے کو کہیں گے لا کلام