گیر
12 Misre
- مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
- حیرت انداز رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔ
- تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
- کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
- پاے خوابیدہ بہ دلجوئی شب گیر آوے
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- ہے گریباں گیر فرصت ذوق عریانی مجھے
- ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہے
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کا
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا