گیا
107 Misre
- رچ گیا جوش صفا سے زلف کا اعضا میں عکس
- بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
- صفحۂ نامہ غلاف بالش پر ہو گیا
- خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
- دامن تمثال مثل برگ گل تر ہو گیا
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- دامن آلودۂ عصیاں گراں تر ہو گیا
- نقش پاے خضر یاں سدّ سکندر ہو گیا
- گر گیا بام فلک سے صبح طشت ماہتاب
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- ہالہ دود شعلۂ جوالۂ مہ ہو گیا
- ہالۂ دیگر بہ گرد ہالۂ مہ ہو گیا
- پارۂ چاک کتاں پرکالہ مہ ہو گیا
- داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا
- رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
- بن گیا سبحہ وہ زنار خدا خیر کرے
- بن گیا تقلید سے میری یہ سودائی عبث
- مہر کانپا چرخ چکر کھا گیا
- روزن کی طرح دید کا آزار رہ گیا
- آئندہ سال تک جو گرفتار رہ گیا
- شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہ
- کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
- کام گر رک گیا روا نہ ہوا
- شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذت فراغ
- فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
- شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- غنچۂ گل پرفشاں پروانہ آسا جل گیا
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
- میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
- ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
- جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
- مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- بن گیا روئے آب پر کائی
- رک گیا دیکھ روانی میری
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
- تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- بارے نوکر بھی ہو گیا صد شکر
- ہو گیا ہے شریک ساہوکار
- سال ہجری نو ہو گیا معلوم
- صحرا لکھا گیا ز رہ امتثال امر
- رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
- آسماں کو کہا گیا کہ کہیں
- حکم ناطق لکھا گیا کہ لکھیں
- بن گیا دشت دامن گلچیں
- ہو گیا ہوں نزار و زارو حزیں
- لڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ
- سونا سوگند ہو گیا ہے غالبؔ
- بادۂ ناب بن گیا انگور
- روٹھا جو بے گناہ تو بے عذر من گیا
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر