گی
22 Misre
- ہے غنیمت کہ بامید گزر جاے گی عمر
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- رنجش دل یک جہاں ویراں کرے گی اے فلک
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
- منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
- ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ
- لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
- کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
- کہے گی خلق اسے داور سپہر شکوہ
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- لیکن آخر کو پڑے گی ایسی گانٹھ
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات