گہر
20 Misre
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
- ہر دانۂ اشک کو گہر کر
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- ضبط گریہ گہر آبلہ لایا آخر
- تا آبلہ محمل کش موج گہر آوے
- مسی مالیدہ دندان گہر ہے
- لب خشک صدف آب گہر سے تر نہیں ہوتا
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
- دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں
- سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
- بے گہر صدف گویا پشت چشم نیساں ہے
- گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
- ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
- فکر میری گہر اندوز اشارات کثیر
- سینہ گنجینۂ گہر ہو گا
- صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں
- ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- ابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں