گھر
49 Misre
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- گھر سے نکالنا ہے اگر ہاں نکالیے
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
- یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- وہ آویں گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔ
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- سواے حسرت تعمیر گھر میں خاک نہیں
- لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
- گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
- گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
- گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
- گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
- احسن اللہ خاں کے گھر بھیجے
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
- خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہے
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر