گویا
30 Misre
- پر طاؤس گویا برق ابر چشم گریاں ہے
- نوحہ گویا خانہ زاد نالۂ رنجور ہے
- نے زبان غنچہ گویا نے زبان خار باغ
- دود چراغ گویا زنجیر بے صدا ہے
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- دہان مار سے گویا صبا نکلتی ہے
- آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
- یہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
- نفی سے کرتی ہے اثبات تراوش گویا
- نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے
- سرمہ گویا موج دود شعلۂ آواز ہے
- بے گہر صدف گویا پشت چشم نیساں ہے
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
- شہر گویا نمونۂ گلزار
- باغ گویا نگارخانۂ چیں
- دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا
- اس سے گلہ مند ہوگیا ہے گویا
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- اور سجادہ بھی گویا ہے وہی