گوہر
39 Misre
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- بدست آوردن دل گوہر دریاے شاہی ہے
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندی گوہر
- آنسو کی بوند گوہر نایاب ہو گئی
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
- ہووے ہے جادۂ رہ رشتہ گوہر ہرگام
- بلا گردان تمکین بتاں صد موجۂ گوہر
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- جوں گوہر اشک کو ہے فرامش چکیدگی
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
- صدف بن قطرۂ نیساں اسدؔ گوہر نہیں ہوتا
- ہر سنگ وحشت ہے صدف گوہر شکست
- عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
- برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاں
- رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکست
- لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
- گوہر کو عقد گردن خوباں میں دیکھنا
- کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
- خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندیٔ گوہر
- صورت رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
- عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
- ہے قلم میری ابر گوہر بار
- کیوں اسے گوہر نایاب تصور کیجیے
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- رخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمک
- لائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا
- زمیں سے سودۂ گوہر اٹھے بجاے غبار
- انجم چرخ گوہر آگیں فرش
- نہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار
- سلک اختر میں مہ نو مژۂ گوہر بار
- شب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی