گو
22 Misre
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- مے پرستاں ناصح بے صرفہ گو بیہودہ ہے
- گو حوصلہ پا مرد تغافل نہیں لیکن
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بیتاب تھا
- دیدہ گو خوں ہو تماشائے چمن مطلب تھا
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
- سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
- گو زندگیٔ زاہد بے چارہ عبث ہے
- رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم
- قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
- گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھو
- گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
- چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
- گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکن
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے