گمان
5 Misre
اسدؔ ہنوز گمان غرور دانائی
ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
گ
All Letters