گم
24 Misre
- نواے طائران آشیاں گم کردہ آتی ہے
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- دعاے مدعا گم کردگاں لبریز آمیں ہے
- کیا دے صدا کہ کلفت گم گشتگاں سے آہ
- مگر روز عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
- مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
- مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
- اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- مباداے پیچتاب طبع نقش مدعا گم ہو
- عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- دم صبح قیامت در گریبان قبا گم ہو
- کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
- مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- کہ یاں گم کر جبین سجدہ فرسا آستانے میں
- دل گم گشتہ مگر یاد آیا
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
- گم کرے گوشۂ میخانہ میں گر تو دستار
- خلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار