گل
333 Misre
- صلح گل گرد ادب گاہ نزاع جلوہ ہے
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
- اگر گل حسن و الفت کی بہم جوشیدنی جانے
- نواے بلبل و گل پاسبان بے دماغی ہے
- برگ ریزی ہاے گل ہے وضع زر افشاندنی
- باج لیتی ہے گلستاں سے گل اندامی تری
- جوش جنوں سے جوں کسوت گل
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- رمیدن گل باغ واماندگی ہے
- نگہ آشناے گل و خار ہیں ہم
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- گریباں چاکی گل ہا نشان داد خواہی ہے
- بہ غفلت عطر گل ہم آگہی مخمور ملتے ہیں
- سحر گل ہاے نرگس چند چشم کور ملتے ہیں
- کف گل برگ سے پاے دل رنجور ملتے ہیں
- بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا
- تبسم برگ گل کو بخیہ دامن نہ ہوجاوے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- غنچۂ منقار گل ہو زیر بال
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشکباری کا
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گل
- ظاہرا ہے اس چمن میں لال مادر زاد گل
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- غنچے سے منقار بلبل وار ہو فریاد گل
- شمع ساں ہوجاے قط خامۂ بہزاد گل
- شاخ گل میں ہو نہاں جوں شانہ در شمشاد گل
- ہے شرار تیشہ بہر تربت فرہاد گل
- لخت دل سے لاوے ہے شمع خیال آباد گل
- غنچۂ پیکان شاخ ناوک صیاد گل
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- حسرتیں کرتی ہے میری خاطر آزاد گل
- فصل گل میں دیدۂ خونیں نگاہان جنوں
- دولت نظارہ گل سے شفق سرمایہ ہے
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- دامن تمثال مثل برگ گل تر ہو گیا
- یک قلم شاخ گل نرگس عصاے کور ہے
- ہے شکست رنگ گل آئینہ پرواز نقاب
- وصل میں بخت سیہ نے سنبلستاں گل کیا
- موسم گل میں مئے گلگوں حلال مے کشاں
- سد اسکندر بنے بہر نگاہ گل رخاں
- ہے کمند موج گل فتراک بے تابی اسدؔ
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- عکس گل ہاے سمن سے چشمہ ہاے باغ میں
- سرو کے قامت پہ گل یک دامن کوتاہ ہے
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- خوشترز گل و غنچہ چشم و دل ساقی ہے
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- کون گل سے ضعف و خاموشی بلبل کہہ سکے
- جوش گل کرتا ہے استقبال تحریر اسدؔ
- غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
- چشم قربانی گل شاخ ہلال عید ہے
- دعوی عشق بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح
- ہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبح
- ساق گل رنگ سے اور آئنہ زانو سے
- جامہ زیبوں کے سدا ہیں نہ داماں گل و صبح
- ہیں دعا ہاے سحرگاہ سے خواہاں گل و صبح
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- غفلت آرامی یاراں پہ ہیں خنداں گل و صبح
- گل سر بسر اشارۂ جیب دریدہ ہے
- یک جہاں گل تختۂ مشق شگفتن ہے اسدؔ
- خار سے گل سینہ افگار جفا ہے اے اسدؔ
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- دود شمع کشتۂ گل بزم سامانی عبث
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- گل صد شعلہ بیک جیب شکیبائی ہے
- نالہ خونیں ورق و دل گل مضمون شفق
- بوئے گل فتنۂ بیدار و چمن جامۂ خواب
- چراغ صبح و گل موسم خزاں تجھ سے
- چمن چمن گل آئینہ درکنار ہوس
- بہار گل دماغ نشۂ ایجاد مجنوں ہے
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- باندھتا ہے رنگ گل آئینہ تا چاک قفس
- رنگ گل آتش کدہ ہے زیر بال عندلیب
- حیرت حسن چمن پیرا سے تیرے رنگ گل
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- ہے تماشا کردنی گل چینی جلاد یاں
- آغوش گل ہے آئنۂ ذرہ ذرہ خاک
- ہے بوے گل غریب تسلی گہ وطن
- وحشت بہار نشہ و گل ساغر شراب
- بہ زبان عرض فسون ہوس گل تا چند
- شمع و گل تا کے پروانہ و بلبل تا چند
- کرے ہیں غنچۂ منقار طوطی نقش گل گیریں
- نالۂ بلبل بگوش گل شنیدن منع ہے
- ہے کف مشاطہ میں آئنۂ گل ہنوز
- شاخ گل نغمہ ہے نالۂ بلبل ہنوز
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- بس رہتے ہیں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جو گل
- گل غنچگی میں غرقۂ دریاے رنگ ہے
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- طفل شوخ غنچۂ گل بس کہ ہے وحشی مزاج
- بوے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
- گردن بہ تماشاے گل افراختنی ہے
- خود بخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
- کمال بندگی گل ہے رہین آزادی
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- خندۂ گل بلب زخم جگر پنہاں ہے
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- کہ شاخ گل کا خم انداز ہے بالیں شکستن کا
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- گل برگ پر بالش سروچمنی ہے
- رنگ رخسار گل خرشید مہتابی کرے
- سایۂ گل داغ و جوش نکہت گل موج دود
- چھڑکے ہے شبنم آئنۂ برگ گل پہ آب
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- گل چہرہ ہے کسو خفقانی مزاج کا
- گل از شاخ دور افتادہ ہے نزدیک پژمردن
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- زبس طوفان آب و گل ہے غافل کیا تعجب ہے
- برنگ گل اگر شیرازہ بند بے خودی رہیے
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- خراب نالۂ بلبل شہید خندۂ گل
- شہ گل نے کیا جب بندوبست گلشن آرائی
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- شاخ گل جلتی تھی مثل شمع گل پروانہ تھا
- گلشن کو رنگ گل سے ہے درخوں طپیدگی
- بس کہ شرمندۂ بوے خوش گل رویاں ہے
- نکہت گل کو ہے غنچے میں نفس دزدیدن
- اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
- بجاے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا
- گل مے میں بھگو بھگو نچوڑے
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
- فرد آئینہ میں بخشیں شکن خندۂ گل
- بنا ہے تختۂ گل ہاے یاسمیں بستر
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- لالہ و گل بہم آئینۂ اخلاق بہار
- درد اظہار تپش کسوتی گل معلوم
- شوخی فریاد سے ہے پدۂ زنبور گل
- آئنۂ نشان حال مثل گل چراغ ہے
- ہر غنچہ اسدؔ بارگہ شوکت گل ہے
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- تماشاے گل و گلشن ہے مفت سربجیبی ہا
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- دیتی ہے گرمی گل و بلبل ہزار داغ
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- وہ نہا کر آب گل سے سایۂ گل کے تلے
- بال اگ جاتا ہے شیشے کا رگ گل کے تلے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- آغوش گل کشودہ براے وداع ہے
- وقت حسن افروزی زینت طرازاں جائے گل
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- ہم زانوئے تأمل و ہم جلوہ گاہ گل
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
- درکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو
- کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
- گل صد شعلہ بہ یک جیب شکیبائی ہے
- نالۂ خونیں ورق و دل گل مضمون شفق
- بوئے گل فتنۂ بیدار و چمن جامۂ خواب
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
- الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی
- صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمن
- ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمن
- قالب گل میں ڈھلی ہے خشت دیوار چمن
- ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
- یوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن
- وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔ
- موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال
- شرح ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسم گل
- ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
- موج گل موج شفق موج صبا موج شراب
- گل چہرہ ہے کسی خفقانی مزاج کا
- نشۂ رنگ سے ہے واشد گل
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- فضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا
- کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
- چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگ گل پر آب
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- صد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرنا
- بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
- اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
- تبسم برگ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاوے
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- ہے تماشہ کردنی گل چینیٔ جلاد یاں
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- غنچۂ گل پرفشاں پروانہ آسا جل گیا
- سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- ہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع
- شگفتگی ہے شہید گل خزانی شمع
- سبزہ بیگانہ صبا آوارہ گل نا آشنا
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- جنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے
- نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- آغوش گل کشودہ برائے وداع ہے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- آئینہ بہ انداز گل آغوش کشا ہے
- ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
- بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
- دامان باغبان و کف گل فروش ہے
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
- بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- طفل شوخ غنچۂ گل بسکہ ہے وحشی مزاج
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- بہ باغ رنگ ہائے رفتہ گل چین تماشا ہے
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش
- ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
- خودبخود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس
- رنگ تمکین گل و لالہ پریشاں کیوں ہے
- سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
- جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
- چاک مت کر جیب بے ایام گل
- یک بیاباں جلوۂ گل فرش پا انداز ہے
- باوجود دل جمعی خواب گل پریشاں ہے
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- گل بہ کوہ از لالہ بزم ساز بیتابی
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- صبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- خار گل بہر دہان گل زباں ہو جائے گا
- ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
- ہر غنچہ كا گل ہونا آغوش کشائی ہے
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- چٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- گل و نرگس بہم آئینہ و اقلیم کوراں ہے
- ہو نگہ مثل گل شمع پریشاں مجھ سے
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- گل غنچگی میں غرقۂ دریائے رنگ ہے
- آنے لگی ہے نکہت گل سے حیا مجھے
- یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہے
- ہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھا
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
- ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل
- اے واے نالۂ لب خونیں نوائے گل
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل
- مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل
- جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل
- ہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل
- اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- گل کدۂ تلاش کو ایک ہے رنگ ایک بو
- سبزہ و برگ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم
- گل و ریحان و لالہ رنگا رنگ
- بار ور جس کا سرو گل بے خار
- کھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ گل سے مسطر
- بوے گل سے نفس باد صبا عطر آگیں
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- وقف احباب گل و سنبل فردوس بریں
- راہ خوابیدہ ہوی حندۂ گل سے بیدار
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار
- نشہ و جلوۂ گل برسر ہم فتنہ غبار
- میکدے میں ہو اگر آرزوے گل چینی
- موج گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغ
- بیخودی دام رگ گل سے ہے پیمانہ شکار
- لالہ ہا داغ برافگندہ و گل ہا بے خار
- عکس موج گل و سر شاری انداز حباب
- رنگریز گل و جام دوجہاں ناز و نیاز
- دوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل
- شاخ گل کا ہے گلفشاں ہونا
- نہ گل اس میں نہ شاخ و برگ نہ بار
- آتش گل پہ قند کا ہے قوام
- بہار شوخ و چمن تنگ و رنگ گل دلچسپ
- کرتا ہے گل جنون تماشا کہیں جسے
- کہ روئے غنچۂ گل سوئے آشیاں پھر جائے
- نام گل کا پھول شبنم اوس ہے