گزرے
8 Misre
گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
دریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی
گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
اس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہار
مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
گ
All Letters