گزرا
4 Misre
گزرا جو آشیاں کا تصور بوقت بند
اب کے بہار کا یونہی گزرا برس تمام
نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سے
گ
All Letters