گزر
22 Misre
- ہے غنیمت کہ بامید گزر جاے گی عمر
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- کہ یہ گلزار باغ رہ گزر ہے
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- گر چراغان سر رہ گزر باد نہیں
- زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
- کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- فن صورت گری میں تیرا گزر
- پہلوے حیات سے گزر جاتا صاف
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر