گریہ
34 Misre
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- ہجوم گریہ سوے دل خوشا سرمایۂ طوفاں
- گریہ ہاے بیدلاں گنج شرر در آستیں
- دل محیط گریہ و لب آشناے خندہ ہے
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- گریہ سرشاری شوق بہ بیاباں زدہ ہے
- گریہ بے لذت کاوش نہ کرے جرأت شوق
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- اسدؔ ہنستے ہیں میرے گریہ ہاے زار پر مردم
- گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
- ضبط گریہ گہر آبلہ لایا آخر
- گریہ وحشت بیقرار جلوۂ مہتاب تھا
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- ہے ذوق گریہ عزم سفر کیجیے اسدؔ
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔ
- گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
- گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- دل محیط گریہ و لب آشناۓ خندہ ہے
- ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
- گریہ ہائے بے دلاں گنج شرر در آستیں
- کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر
- سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے
- جان میں ہوتی گریہ شیرینی