گریباں
33 Misre
- نہ ذوق گریباں نہ پرواے داماں
- گریباں چاکی گل ہا نشان داد خواہی ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- بقدر لفظ و معنی فکرت احرام گریباں ہیں
- چاک گریباں کو ہے ربط تامل ہنوز
- ہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبح
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- ایجاد گریباں ہا درپردۂ عریانی
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
- ہے گریباں گیر فرصت ذوق عریانی مجھے
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- ساقی نے از بہر گریباں چاکی موج بادۂ ناب
- ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
- جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
- تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- میری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
- ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے