گرہ
41 Misre
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- گرہ ہے حسرت آبے بروے کار آورن
- گرہ غنچۂ ہے سامان چمن بالیدن
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
- جو گرہ آپ نہ کھولی اسے مشکل باندھا
- ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا
- جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
- واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
- گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ
- رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
- انھیں کی سال گرہ کے لیے سال بسال
- کہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ
- ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- کہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ
- لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
- بلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ
- کہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ
- بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ
- کہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ
- کڑوڑوں ڈھونڈھ کے لاتا یہ خاکسار گرہ
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ
- بری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ
- کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
- پڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ
- خدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ
- ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
- سر رشتۂ بیتابیٔ دل در گرہ عجز
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی