گرچہ
23 Misre
- ہم نشینی رقیباں گرچہ ہے سامان رشک
- گرچہ ہے یک بیضۂ طاؤس آسا تنگ دل
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
- گرچہ خدا کی یاد ہے کلفت ماسوا سمجھ
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضر
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق
- گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ
- کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
- خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
- گرچہ از روے ننگ بے ہنری
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغل
- ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت
- ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے
- ہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار