گرمیٔ
8 Misre
گرمیٔ برق تپش سے زہرٔ دل آب تھا
اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
سیماب پشت گرمیٔ آئینہ دے ہے ہم
گرمیٔ دولت ہوئی آتش زن نام نکو
غرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے
گرمیٔ نبض خار و خس آشیاں نہ پوچھ
گ
All Letters