گرمی
31 Misre
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- بیاد گرمی صحبت برنگ شعلہ دہکے ہے
- گرمی شوق طلب ہے عین تا پاک وصال
- افسردۂ تمکیں ہے نفس گرمی احباب
- رنگ کی گرمی ہے تاراج چمن کی فکر میں
- ہوں گرمی نشاط تصور سے نغمہ سنج
- دیتی ہے گرمی گل و بلبل ہزار داغ
- بال کس گرمی سے سکھلاتا تھا سنبل کے تلے
- سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
- تا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیال
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- کمال گرمی سعیٔ تلاش دید نہ پوچھ
- ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
- ہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں
- ہوئی میری وہ گرمی بازار
- دھوپ کی یابش آگ کی گرمی
- رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
- جل اٹھے گرمی رفتار سے پاے چوبیں
- گرمی شعلۂ رفتار سے جلتے خس و خار