گرم
49 Misre
- ہنگامہ گرم حیرت بود و نمود تھا
- رکھا اسپند نے مجمر میں پہلو گرم تمکیں کا
- عیش گرم اضطراب و اہل غفلت سرد مہر
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- گرم تکلیف دل رنجیدہ ہے از بس کہ چرخ
- جلوۂ خرشید سے ہے گرم پہلوے ہلال
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
- دل گرم تپش قاصد ہے پیغام تسلی کا
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- رات دل گرم خیال جلوۂ جانانہ تھا
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
- جوں برق ہے پیچیدگی بند قبا گرم
- جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
- ہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوے
- خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
- تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
- ہے خبر گرم ان کے آنے کی
- شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
- داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا
- جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
- پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس
- گرم بازار فوجداری ہے
- برق خرمن راحت خون گرم دہقاں ہے
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
- گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- نگہ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرم خرام
- چشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار
- پر طاؤس کرے گرم نگہ کا بازار
- ہو جہاں گرم غزالخوانی نفس
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے