گرفتار
23 Misre
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- بسان اشک گرفتار چشم دام رہا
- بہ دم چند گرفتار غم چند رہا
- ظاہرا صیاد ناداں ہے گرفتار ہوس
- اسدؔ خستہ گرفتار دو عالم اوہام
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- گرفتار الم ہاے زمانہ
- رہنے دو گرفتار بہ زندان خموشی
- آئندہ سال تک جو گرفتار رہ گیا
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- وہ گرفتار خرابی ہوں کہ فوارہ نمط
- شکل طاؤس گرفتار بنایا ہے مجھے
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- آخر کار گرفتار سر زلف ہوا
- سرو ہے با وصف آزادی گرفتار چمن
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا
- آخر نوائے مرغ گرفتار بھی نہیں
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- ہوں گرفتار الفت صیاد
- طرہ ہا بس کہ گرفتار صبا ہیں شانہ