گردوں
21 Misre
- کرے گر فکر تعمیر خرابی ہائے دل گردوں
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- دامن گردوں میں رہ جاتا ہے ہنگام وداع
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- گردش جام تمنا دور گردوں ہے مجھے
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- نہیں ممکن بجولاں ہاے گردوں دخل پے بردن
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- میں جو گردوں کو بہ میزان طبیعت تولا
- مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- رہے غالبؔ خستہ مغلوب گردوں
- تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- وہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ
- تیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں
- سطح گردوں پر پڑا تھا رات کو
- پھر فلک چرخ اور گردوں اور سپہر