گردش
34 Misre
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- قسمت بخت رقیب گردش صد جام ہے
- سرور نشۂ گردش اگر کیفیت افزا ہو
- دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
- شکست گوشہ گیراں ہے فلک کو حاصل گردش
- گردش میں لا تجلی صد ساغر تسلی
- گردش رنگ چمن ہے ماہ و سال عندلیب
- نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- گردش جام تمنا دور گردوں ہے مجھے
- دو جہاں گردش یک سبحۂ اسرار نیاز
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- مری محفل میں غالبؔ گردش افلاک باقی ہے
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- دوران سر سے گردش ساغر ہے متصل
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
- کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
- گردش مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- گردش رنگ طرب سے ڈر ہے
- آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات
- ہے شکست رنگ امکاں گردش پہلو مجھے
- نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے
- گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- بندہ عاجز ہے گردش ایام
- چرخ نے لی ہے جس سے گردش وام
- گردش کاسۂ سم چشم پری آئنہ دار