گرد
66 Misre
- صلح گل گرد ادب گاہ نزاع جلوہ ہے
- خط صفحۂ عذار پہ گرد کتاب ہے
- غبار سرمہ یاں گرد سواد نرگستاں ہے
- باقلیم سخن ہے جلوۂ گرد سواد آتش
- نہ باندھے شعلۂ جوالہ غیر از گرد باد آتش
- غافلاں عکس سواد صفحہ ہے گرد کتاب
- گرد صحراے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- ہے غلاف دفچۂ خرشید ہر یک گرد باد
- مشک ہے سنبلستان زلف ہیں گرد سواد
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- ہر گرد باد حلقۂ فتراک بے خودی
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- بہ گرد سر مہ انداز نگاہ شرمگیں پایا
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- ہے سخن گرد زدامان ضمیر افشاندہ
- ہالۂ دیگر بہ گرد ہالۂ مہ ہو گیا
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- گرد ساحل ہے نم شرم جبین آشنا
- نالہ در گرد تمناے اثر پنہاں ہے
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- کہ ہر یک گرد باد گلستاں گرداب ہوجاوے
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- آہنگ عدم نالہ بہ کہسار گرد ہے
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرد اب تھا
- گرد باد آئنۂ محشر خاک مجنوں
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- غبار خط رخ گرد سحر ہے
- سواد شعر در گرد سفر ہے
- گرد ساحل سنگ راہ جوشش دریا نہیں
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- گرد صحرائے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
- جوہر آئینہ ہے یاں گرد میدان نزاع
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- زہد گردیدن ہے گرد خانہ ہائے منعماں
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- گرد باد رہ بیتابی ہوں
- میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں
- گرد رہ سرمہ کش دیدۂ ارباب یقیں
- گنبد تیز گرد نیلی فام
- فوج کی گرد راہ مشک فشاں
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- گرد اس دشت کی امید کو احرام بہار
- دشت تسخیر ہو گر گرد خرام دلدل
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر
- گرد جولاں سے ہے تیری بگریبان خرام
- گرد باد آئنہ فتراک دماغ دل ہا
- بہت ہے پایۂ گرد رہ حسین بلند
- رشتہ در گرد نم افگندہ دوست
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف