گر
234 Misre
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- تماشا ہے کہ رنگ رفتہ بر گر دیدنی جانے
- گر تب آسودۂ مژگاں تصرف وا کرے
- گر دکھاؤں صفحۂ بے نقش رنگ رفتہ کو
- عکس گر طوفانی آئینۂ دریا کرے
- آسماں سے بادۂ گلفام گر برسا کرے
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- کرے گر فکر تعمیر خرابی ہائے دل گردوں
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- گر گیا بام فلک سے صبح طشت ماہتاب
- گر کرے یوں امر نہی بو تراب آئینے پر
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- ہستی عدم ہے آئینہ گر رو برو نہ ہو
- گر نہیں پاتا درون خانہ ہر بے گانہ جا
- پس بہ دل ہاے و گر راحت رسانی مفت ہے
- گر صفحے کو نہ دیجیے پرواز سادگی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- بہانہ جوئی رحمت کمیں گر تقریب
- ہمارا دیکھنا گر ننگ ہے سیر گلستاں کر
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- نہ لبوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- ہے سرمہ گر درہ بہ گلوے جرس تمام
- کرے گر حیرت نظارہ طوفاں نکتہ گوئی کا
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- گر آب چشمۂ آئینہ دھووے عکس زنگی کا
- غم مجنوں عزاداران لیلی کا پرستش گر
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- جوں جادہ گر درہ سے نگہ سرمہ سا کروں
- گر نہ باندھے قلزم الفت میں سر جاے کدو
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- ٹوٹے گر آئنہ اسدؔ سبحہ کو خوں بہا سمجھ
- یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
- دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
- گر جلوۂ خرشید خریدار وفا ہو
- گر دیدہ و دل صلح کریں جنگ نکالوں
- کیا کروں گر سایۂ دیوار سیلابی کرے
- اے خوشا گر آب تیغ ناز تیزابی کرے
- ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- غضب ہے گر غبار خاطر احباب ہوجاوے
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- عجز اعجاز ستایش گر کھلا
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- گر خاک ہو گلدستۂ صد نقش قدم باندھ
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- کروں گر عرض سنگینی کہسار اپنی بیتابی
- اسد کو گر از چشم کم دیکھتے ہیں
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہاے بلبل زار
- گر زلف یار کھنچ نہ سکے شانہ کھینچیے
- تمثال بتاں گر نہ رکھے پنبۂ مرہم
- طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوں
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- اسدؔ گر نام دالاے علی تعویذ بازو ہو
- جہاں شمع خموشی جلوہ گر ہے
- گر ملے حضرت بیدل کا خط لوح مزار
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- گر ہے سر دریوزگی جلوۂ دیدار
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
- چاہے گر جنت جز آدم وارث آدم نہیں
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- بہار سنبلستان جلوہ گر ہے آں سوے دریا
- اسدؔ طبع متیں سے گر نکالوں شعر برجستہ
- نہ سنو گر برا کہے کوئی
- نہ کہو گر برا کرے کوئی
- روک لو گر غلط چلے کوئی
- بخش دو گر خطا کرے کوئی
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- وقت ہے گر بلبل مسکیں زلیخائی کرے
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
- غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زر
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- بھروں یک گوشۂ دامن گر آب ہفت دریا ہو
- مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
- کام گر رک گیا روا نہ ہوا
- حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
- دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
- نہیں گر سر و برگ ادراک معنی
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
- ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے
- گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
- آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- گر باغ گدائے مے نہیں ہے
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
- گر عرض تپاک جگر سوختہ چاہیں
- اسدؔ گر نام والائے علی تعویذ بازو ہو
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے
- کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- گر چراغان سر رہ گزر باد نہیں
- گر ملے ؔحضرت بیدل کا خط لوح مزار
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- ڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
- گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- مے کدہ گر چشم مست ناز سے پاوے شکست
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
- میری آواز گر نہیں آتی
- داغ دل گر نظر نہیں آتا
- بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
- ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
- کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
- لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
- بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- شوق دیدار میں گر تو مجھے گردن مارے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- ہم کو ستم عزیز ستم گر کو ہم عزیز
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- دل میں چھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنی
- سن اے غارت گر جنس وفا سن
- گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
- اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل
- غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
- رزم کی داستان گر سنیے
- بزم کا التزام گر کیجیے
- ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
- قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہر نماز
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- کوہ کن گر سنہ مزدور طرب گاہ رقیب
- داد دیوانگی دل کہ ترا مدحت گر
- گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت
- تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں
- تو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت
- گر تجھے ہے امید رحمت عام
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام
- کہ جہاں گدیہ گر کا نام نہیں
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- گم کرے گوشۂ میخانہ میں گر تو دستار
- کھینچے گر مانی اندیشہ چمن کی تصویر
- فرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل
- خلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار
- دشت تسخیر ہو گر گرد خرام دلدل
- دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
- مجھ سے گر شاہ سخن گستر کھلا
- گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں
- بقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو
- برا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں
- منہ پہ گر جھری پڑے آزنگ جان
- زر ہے سونا اور زر گر ہے سنار
- گر دریچہ فارسی کھڑکی کی ہے
- گر ڈرو ڈرنے کو ترسیدن کہو
- ہاں غزل پڑھیے سبق گر یاد ہو
- گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلاؤں تمہیں
- سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے