گداز
32 Misre
- گداز ہر تمنا آبیار صد تمنا ہے
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- عالم آب گداز جو ہر افسانہ ہم
- دل در گداز نالہ نگہ آبیار تر
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- خیال شربت عیسیٰ گداز تر جبینی ہے
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہاے خوں
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- بزم ہے یک پنبۂ مینا گداز ربط سے
- گداز حوصلہ کو پاس آبرو جانے
- گداز دل کو کرتی ہے کشود چشم شب پیما
- شبنم گداز آئنۂ اعتبار ہے
- گداز سعی بینش شست و شوے نقش خودکامی
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- تمثال گداز آئنہ ہے عبرت بینش
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- کیا یکسر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- کہ شیشہ نازک و صہبائے آبگینہ گداز
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہائے خوں
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- گداز آرزو ہا آبیار آرزو ہا ہے
- آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
- پناوے بے گداز موم ربط پیکر آرائی
- ہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز