گاہ
55 Misre
- صلح گل گرد ادب گاہ نزاع جلوہ ہے
- ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن
- غبار نالہ کمیں گاہ مدعا معلوم
- طلسم خاک کمیں گاہ یک جہاں سودا
- تغافل کمیں گاہ وحشت شناسی
- بجولاں گاہ نومیدی نگاہ عاجزاں پا ہے
- بہ وحشت گاہ امکاں اتفاق چشم مشکل ہے
- ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
- شرم طوفان خزاں رنگ طرب گاہ بہار
- دام گاہ عجز میں سامان آسایش کہاں
- خواب غفلت بہ کمیں گاہ نظر پنہاں ہے
- کمیں گاہ بلا ہے ہوگیا شیشہ جہاں خالی
- دل از اضطراب آسودہ طاعت گاہ داغ آیا
- نگہ غبار ادب گاہ جلوہ فرمائی
- طلسم نا امیدی ہے خجالت گاہ پیدائی
- نگاہ عبرت افسوں گاہ برق و گاہ مشعل ہے
- بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
- گاہ بخلد امیدوار گہ بہ جحیم بیم ناک
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- ہم زانوئے تأمل و ہم جلوہ گاہ گل
- دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل
- شرم طوفان خزاں رنگ طرب گاہ بہار
- موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال
- طلسم خاک کمیں گاہ یک جہاں سودا
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- بہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائی
- فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا
- پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے
- بہ فراز گاہ عبرت چہ بہار و کو تماشا
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- دیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے
- دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنا
- ہنوز آئینہ خلوت گاہ ناز ربط مژگاں ہے
- گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
- گاہ رو کر کہا کیے باہم
- پایہ سنجان دست گاہ سخن
- بہ فراز گاہ عبرت چہ بہارو کو تماشا
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- کوہ کن گر سنہ مزدور طرب گاہ رقیب
- ایک ہی ہے امید گاہ انام
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام
- جہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- پیش گاہ حضور شوکت و جاہ
- بہ نظر گاہ گلستان خیال ساقی
- جس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو
- رونق کار گاہ برگ و نوا