گا
61 Misre
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- جوش فریاد سے لوں گا دیت خواب اسدؔ
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائے گا
- غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گا
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا
- ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- خار گل بہر دہان گل زباں ہو جائے گا
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا
- اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا
- سینہ گنجینۂ گہر ہو گا
- زر قیمت کا ہو گا اور حساب
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- لائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا
- کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ
- کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ
- مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
- جو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ
- کیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام
- حضرت کا عز و جاہ رہے گا علی الدوام
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- جوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی
- عطا کرے گا خداوند کارساز اسے
- یہ ترکتاز سے برہم کرے گا کشور روس
- یہ لے گا بادشہ چیں سے چھین تخت و کلاہ
- باغ معنی کی دکھاؤں گا بہار
- جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
- یہ یہ ہو گا کہ فرط رافت سے
- پیر و مرشد معاف کیجئے گا
- لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا
- باز خواہم رفت میں پھر جاؤں گا
- نان خواہم خورد روٹی کھاؤں گا