گئے
58 Misre
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- غالبؔ زبس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشک
- ہو گئے باہم دگر جوش پریشانی سے جمع
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- پر افشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر
- ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
- کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
- گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
- جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
- مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری
- ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- کہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ
- استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
- مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے
- دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے