گئیں
22 Misre
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
- بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
- جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
- میری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں
- یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
- مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
- دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- نسبتیں ہو گئیں مشخص چار
- سب صورتیں بدل گئیں ناگاہ یک قلم