گئی
62 Misre
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- آنسو کی بوند گوہر نایاب ہو گئی
- عمر میری ہو گئی صرف بہار حسن یار
- جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- چمن زار تمنا ہو گئی صرف خزاں لیکن
- گئی یک عمر خودداری باستقبال رعنائی
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
- لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
- کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- خاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی
- اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
- تکلیف پردہ داری زخم جگر گئی
- اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی
- بارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی
- موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
- اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
- مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
- لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- کھل گئی ہیچ مدانی میری
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- غم سے جب ہو گئی ہو زیست حرام
- عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام
- یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
- گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئی
- مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
- سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
- کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
- غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی
- ہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی
- تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار
- جاگ اٹھا میں کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- تابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئی
- آتے ہی خاصیت اکسیر آدھی رہ گئی
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی
- خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی
- نکلی آدھی حسرت تقریر آدھی رہ گئی
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی