کے
625 Misre
- ایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آسکا
- پر بلبل کے افسردن کو دامن چیدنی جانے
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- چنے ہے کہکشاں خرمن سے مہ کے خوشہ پرویں کا
- ترحم میں ستم کوشوں کے ہے سامان خونریزی
- اسدؔ تا کے طبیعت طاقت ضبط الم لاوے
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- زمانے کے شب یلداسے موے سر پریشاں ہیں
- شور حشر اس فتنہ قامت کے حضور
- شعلہ رخسارا تحیر سے تری رفتار کے
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- ناز خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہ
- واسطے فکر مضامین متیں کے غالبؔ
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- سرو کے قامت پہ گل یک دامن کوتاہ ہے
- چیونٹی کے پر سر و برگ خود آرائی نہیں
- جامہ زیبوں کے سدا ہیں نہ داماں گل و صبح
- در پر امیر کلب علی خاں کے ہوں مقیم
- وقت شب اس شمع رو کے شعلۂ آواز پر
- دویدن کے کمیں جوں ریشۂ زیر زمیں پایا
- حیا کو انتظار جلوہ ریزی کے کمیں پایا
- زندگی کے ہوئے ناگہ نفس چند تمام
- لا جرم توڑ کے عاجز قلم چند رہا
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- نشہ مے کے تصور میں نگہبانی عبث
- ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
- شوق بے پروا کے ہاتھوں مثل ساز نا درست
- ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
- شمع و گل تا کے پروانہ و بلبل تا چند
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- عرق ریز تپش ہیں موج کے مانند زنجیریں
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- خالی مجھے دکھلا کے بوقت سفر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- اب کے بہار کا یونہی گزرا برس تمام
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- لو ہم مریض عشق کے تیمار دار ہیں
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- بدر کے مانند کاہش روز افزوں ہے مجھے
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- تو بتے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- خود بخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
- مرگیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- خدا کے واسطے اے شاہ بیکساں فریاد
- حباب بحر کے ہے آبلوں میں خار ماہی کا
- شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
- لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- تامے کے ساتھ آگیا پیغام مرگ
- آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندان عجز
- تصویر کے پردے میں مگر رنگ نکالوں
- ساتھ حجاج کے اکثر کئی منزل آئے
- دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- کرے ہے مغز سے مانند نے کے استخواں خالی
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- دریغا بستن رخت سفر سے ہو کے میں غافل
- اسدؔ کے واسطے رنگے بروے کار ہو پیدا
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
- اہل ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
- پر عاصیوں کے زمرے میں میں برگزیدہ ہوں
- شاہ کے آگے دھرا ہے آئنہ
- ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- ساتھ جنبش کے بیک برخاستن طے ہوگیا
- دیکھ اس کے ساعد سیمین و دست پر نگار
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- اندوہ سے ڈر کے منھ نہ موڑے
- جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
- کاغذ کے دوڑتے ہیں گھوڑے
- پانی نہ چوائے اس کے منھ میں
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- خضرؔ مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
- رنگ اڑتا ہے گلستاں کے ہوا داروں کا
- ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
- اٹھائے کیوں کے یہ رنجور خستہ تن تکیہ
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیے
- طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوں
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- نشۂ مے کے اتر جانے کے غم سے انگور
- وہ نہا کر آب گل سے سایۂ گل کے تلے
- بال کس گرمی سے سکھلاتا تھا سنبل کے تلے
- خال کب مشاطہ دے سکتی ہے کا کل کے تلے
- بال اگ جاتا ہے شیشے کا رگ گل کے تلے
- ورنہ صد گلزار ہے یک بال بلبل کے تلے
- جادۂ منزل ہے خط ساغر مل کے تلے
- غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
- پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے
- ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
- ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
- اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
- جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
- تیری فرصت کے مقابل اے عمر
- عقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال انتفاع
- آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا
- نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- یار نے تشنگیٔ شوق کے مضموں چاہے
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- رنگ نے آئنہ آنکھوں کے مقابل باندھا
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
- دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
- قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
- منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
- ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
- ہے جنوں اہل جنوں کے لیے آغوش وداع
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی
- جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
- اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
- صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
- حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
- کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
- تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
- گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
- ہے خبر گرم ان کے آنے کی
- لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
- ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
- دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
- ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
- ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- ہلتے ہیں خودبخود مرے اندر کفن کے پاؤں
- اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
- شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
- ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
- ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
- جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
- بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے
- بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
- دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
- کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
- ہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
- نقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
- تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
- دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
- قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
- گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
- ہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے
- ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
- دھوئے دھبے جامۂ احرام کے
- یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
- شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر
- دیکھیے کب دن پھریں حمام کے
- ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
- واں عزت تخت کے نہیں ہے
- کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
- سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- فریدون و جم و کے خسرو و داراب و بہمن کو
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
- آئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
- مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
- سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- میں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ۔۔۔جو زباں کے بدلے
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- خودبخود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس
- مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- تو بنے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- کاش کے تم مرے لیے ہوتے
- سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں
- دل گداختہ کے میکدے میں ساغر کھینچ
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- دراز دستی قاتل کے امتحاں کے لیے
- کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
- گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
- اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
- بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
- کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
- بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے
- زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
- بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
- سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
- صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
- کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں
- علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- ہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگے
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہا
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ ولیکن ناچار
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- تھی وہ اک شخص کے تصور سے
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت
- سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- صبح کے مانند زخم دل گریبانی کرے
- غافل ان مہ طلعتوں کے واسطے
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
- پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
- دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے
- ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
- بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
- جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
- پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
- دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
- ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جان
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
- آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
- رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
- سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
- ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
- ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
- شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
- ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
- اس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار
- ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
- اس طرح کے وصال سے یا رب
- نقد سخن کے واسطے ایک عیار آگہی
- شعر کے فن کے واسطے مایۂ اعتبار ایک
- لطف و کرم کے باب میں زینت روزگار ایک
- ریختے کے قماش کو پود ہے ایک تار ایک
- دونوں کے دل حق آشنا دونوں رسول پر فدا
- لایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں
- عاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی
- رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- بٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں
- ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- حاتم دست سلیماں کے مشابہ لکھیے
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض
- کہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
- حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ
- مسلک شرع کے ہیں راہرو و راہ شناس
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- ہم نہ تبلیغ کے مائل نہ غلو کے قائل
- یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- ہندسے پہلے سات سات کے دو
- جو ائمہ کے ہیں تولائی
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے
- سو اناج کے جو ہے مقلوب جاں
- ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں
- وہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھول
- کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قل
- دیکھیے چل کے نظم عالم نثر
- اس کے فقروں میں کون آتا ہے
- ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے
- احسن اللہ خاں کے گھر بھیجے
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- تین دن مسہل سے پہلے تین دن مسہل کے بعد
- تین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- کہ بحث علم میں اطفال ابجدی اس کے
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
- سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
- رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
- رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
- جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
- ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- اس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- تیرے در کے کیے اسباب نثار آمادہ
- گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ
- دکھا کے رشتہ کسی جوتشی سے پوچھا تھا
- وہ راؤ راجہ بہادر کہ حکم سے جن کے
- انھیں کی سال گرہ کے لیے سال بسال
- انھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہے
- انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر
- سن اے ندیم برس گانٹھ کے یہ تاگے نے
- کڑوڑوں ڈھونڈھ کے لاتا یہ خاکسار گرہ
- زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- اڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کا
- عذر میں تین دن نہ آنے کے
- لے کے آیا ہے عید کا پیغام
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- اور کے لین دین سے کیا کام
- دل کے لینے میں جن کو تھا ابرام
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- اس کے مضروب کے سر و تن سے
- ترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- حق کے تفضلات سے ہو مرجع انام
- ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
- جس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام
- آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- جہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ
- یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- جوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- جن کی دیوار قصر کے نیچے
- رہرووں کے مشام عطر آگیں
- ران پر داغ تازہ دے کے وہیں
- لالے کے داغ سے جوں نقطہ و خط سنبل زار
- غنچے کے میکدے میں مست تامل ہے بہار
- شاخ گلبن پہ صبا چھوڑ کے پیراہن خار
- بیضۂ قمری کے آئینے میں پنہاں صیقل
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- دام سے اس کے قضا کو ہے رہائی دشوار
- موج ابروے قضا جس کے تصور سے دو نیم
- بیم سے جس کے دل شحنۂ تقدیر فگار
- جس کے حیرت کدۂ نقش قدم میں مانی
- ذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار
- تیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں
- دوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل
- خسرو انجم کے آیا صرف میں
- لا کے ساقی نے صبوحی کے لیے
- خسرو آفاق کے منہ پر کھلا
- وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے
- اس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا
- مجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کے
- لڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
- آواز تری نکلے اور آواز کے ساتھ
- پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- ہے خلق حسد قماش لڑنے کے لیے
- وحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے
- ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
- ہے اب کے شب قدر و دوالی باہم
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
- سن سن کے اسے سخنوران کامل
- حاجی کلو کو دے کے بے وجہ جواب
- آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
- فیروزے کی تسبیح کے ہیں یہ دیوانے
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
- عدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- علی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین
- بھرا ہے غالبؔ دلخستہ کے کلام میں درد
- تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں
- آم کے آگے پیش جاوے خاک
- آم کے آگے نیشکر کیا ہے
- شیرے کے تار کا ہے ریشہ نام
- انگبیں کے بحکم رب الناس
- بھر کے بھیجے ہیں سر بمہر گلاس
- عدل سے اس کے ہے حمایت عہد
- لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
- اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
- پیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
- یہ نہیں ہیں گے کسو کے یار غار
- گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
- ہاتف غیب سن کے یہ چیخا
- ہنستے ہیں دیکھ دیکھ کے سب ناتواں مجھے
- کپڑوں میں جویں بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں
- خدا کے بعد نبیؐ اور نبیؐ کے بعد امام
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
- سنین عمر کے ستر ہوئے شمار برس
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز
- آسماں کے نام ہیں اے رشک مہر
- جمعے کے دن وعدہ ہے دیدار کا
- شہر میں چھڑیوں کے میلے کی ہے بھیڑ
- لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا
- چہ کے معنی کیا چگویم کیا کہوں
- اینٹ کے گارے کا نام آژند ہے
- شعر کے پڑھنے میں کچھ حاصل نہیں
- کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
- بیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو
- مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی