کیے
36 Misre
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
- کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
- بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
- مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
- عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے
- برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
- مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
- سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے
- ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے
- نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
- پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
- عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے
- صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
- جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے
- زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
- سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے
- چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے
- سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے
- بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
- بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
- گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
- گاہ رو کر کہا کیے باہم
- یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے
- سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
- تیرے در کے کیے اسباب نثار آمادہ