کیوں
163 Misre
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- حیراں ہوں دامن مژہ کیوں جھاڑتا نہیں
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- کیوں نہ طوطی طبیعت نغمہ پیرائی کرے
- کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- خراج بادشہ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج
- اٹھائے کیوں کے یہ رنجور خستہ تن تکیہ
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
- کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
- ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
- شکن زلف عنبریں کیوں ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
- موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
- اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیے
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
- لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
- رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- اتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے
- کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
- کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا
- بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
- کیوں بوتے ہیں باغبان تونبے
- کیوں رد قدح کرے ہے زاہد
- تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- رنگ تمکین گل و لالہ پریشاں کیوں ہے
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- عمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا رب
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
- کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
- نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
- کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
- کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
- یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- کیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- کیوں اسے قفل در گنج محبت لکھیے
- کیوں اسے نقطۂ پرکار تمنا کہیے
- کیوں اسے گوہر نایاب تصور کیجیے
- کیوں اسے مردمک دیدۂ عنقا کہیے
- کیوں اسے تکمۂ پیراہن لیلیٰ لکھیے
- کیوں اسے نقش پئے ناقۂ سلما کہیے
- نہ کیوں ہو مادۂ سال عیسوی محظوظ
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
- کیوں نہ دکھلاوے فروغ مہ و اختر سہرا
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں
- راز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- کیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام
- کیوں نمایاں ہو صورت ادغام
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- کس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا
- ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہم
- دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
- شیعی کیوں کر ہو ماور النہری
- کیوں کر مانوں کہ اس میں تلوارنہیں
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
- کیوں نہ کھولے در خزینۂ راز
- تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- ہیولیٰ صورت کابوس پھر خواب گراں کیوں ہو
- تازیانہ کیوں نہ کوڑا نام پائے
- ہے ہراسیدن بھی ڈرنا کیوں ڈرو
- اور جنگیدن ہے لڑنا کیوں لڑو
- فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ
- سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- آدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر