کیجے
19 Misre
- آغوش نقش پا میں کیجے فشار صحرا
- تا بیاں کیجے سپاس لذت آزار دوست
- مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
- کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- کیجے بیاں سرور تپ غم کہاں تلک
- سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
- قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
- ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجے
- ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے