کیجیے
23 Misre
- وگر نہ کیجیے جو ذرہ عریاں ہم نمایاں ہیں
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- کیجیے آہوے ختن کو خضر صحراے طلب
- بہ نوک ناخن شمشیر کیجیے حل مشکل ہا
- بپاے خامۂ مو طے رہ وصف کمر کیجیے
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- کیجیے جوں اشک اور قطرہ زنی
- ہے ذوق گریہ عزم سفر کیجیے اسدؔ
- موقوف کیجیے یہ تکلف نگاریاں
- خانہ ویراں سازی حیرت تماشا کیجیے
- مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے
- دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو
- روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
- حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے
- بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے
- بزم کا التزام گر کیجیے
- میری تنخواہ کیجیے ماہ بماہ
- حجر الاسود دیوار حرم کیجیے فرض
- کیوں اسے گوہر نایاب تصور کیجیے
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض