کیا
414 Misre
- کعبے میں جارہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اس نے
- ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
- نا امیدی ہے خیال خانہ ویراں کیا کرے
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے
- یارو اسدؔ کا نام و نشاں کیا
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- وصل میں بخت سیہ نے سنبلستاں گل کیا
- دل کو توڑا جوش بیتابی سے غالب کیا کیا
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- کیا فائدہ کہ منت بیگانہ کھینچیے
- ہوسکے کیا خاک دست و بازوے فرہاد سے
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- عروج نا امیدی چشم زخم چرخ کیا جانے
- اسدؔ طرز عروج اضطراب دل کو کیا کہیے
- بیکسی افسردہ ہوں اے ناتوانی کیا کروں
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- کیا کہوں پرواز کی آوارگی کی کشمکش
- کیا دے صدا کہ کلفت گم گشتگاں سے آہ
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
- ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
- ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
- تصور نے کیا ساماں ہزار آئینہ بندی کا
- تھا خواب میں کیا جلوہ پرستار زلیخا
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- کرے کیا دعوی آزادی عشق
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- کیا ہے ترک دنیا کاہلی سے
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- سوز دل کا کیا کرے باران اشک
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوں
- ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
- سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے نہ کریں
- آرزوے خانہ آبادی نے ویراں تر کیا
- کیا کروں گر سایۂ دیوار سیلابی کرے
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- زبس طوفان آب و گل ہے غافل کیا تعجب ہے
- شہ گل نے کیا جب بندوبست گلشن آرائی
- ہوسکے کیا مدح ہاں اک نام ہے
- کیا سزا ہے میرے جرم آرزو تاویل کی
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
- کیا کمال عشق نقص آباد گیتی میں ملے
- کیا یکسر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تار نفس
- تدبیر پیچ تاب نفس کیا کرے کوئی
- وحشی بن صیاد نے ہم رم خوردوں کو کیا رام کیا
- رشتۂ چاک جیب دریدہ صرف قماش دام کیا
- شوخ نے وقت حسن طرازی تمکیں سے آرام کیا
- تار نگاہ سوزن مینا رشتۂ خط جام کیا
- قاتل تمکیں سنج نے یوں خاموشی کا پیغام کیا
- ماہ کو در تسبیح کواکب جاے نشین امام کیا
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- دگر نہ منزل حیرت سے کیا واقف ہیں مدہوشاں
- میکش مضموں کو حسن ربط خط کیا چاہیے
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
- بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
- کیا کیا خضر نے سکندر سے
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
- غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- ہو فشار ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
- دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
- تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- کسے خبر ہے کہ واں جنبش قلم کیا ہے
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- وگرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
- سختی کشان عشق کی پوچھے ہے کیا خبر
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
- اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
- کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا
- مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
- آستان یار سے اٹھ جائیں کیا
- عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
- مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
- کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
- کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہی
- دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
- ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
- نسیم مصر کو کیا پیر کنعاں کی ہوا خواہی
- پڑا رہ اے دل وابستہ بیتابی سے کیا حاصل
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
- عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
- موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- آخر اس درد کی دوا کیا ہے
- یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
- کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
- پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
- غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
- نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
- ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
- جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
- اور درویش کی صدا کیا ہے
- میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
- مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
- روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
- ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے
- حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے
- ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے
- سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
- مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
- یہ کیا بے نیازی ہے حضرت سلامت
- کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
- کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
- طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
- اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے
- خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
- اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
- میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- کہوں کیا خوبی اوضاع ابنائے زماں غالبؔ
- کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
- زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے
- پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
- آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
- مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان گلشن کو
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- کیا بیتاب کاں میں جنبش جوہر نے آہن کو
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- کیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے
- کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
- کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- عشق و مزدوری عشرت گہ خسرو کیا خوب
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- نکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ ولیکن ناچار
- کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
- یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
- چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
- اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی
- کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
- سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہے
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
- ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
- بے تکلف اے شرار جستہ کیا ہو جائیے
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
- آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے
- کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
- کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے
- اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
- ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- تنگئ دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
- کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
- وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے
- ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
- کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے
- یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
- نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
- تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
- کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
- شکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا
- تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
- ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
- تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
- غم آوارگی ہائے صبا کیا
- ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
- محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
- شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا
- شکست شیشۂ دل کی صدا کیا
- کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
- شکیب خاطر عاشق بھلا کیا
- یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا
- عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
- کیا پوچھے ہے بر خود غلطیہائے عزیزاں
- ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
- کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے
- زہرہ نے ترک کیا حوت سے کرنا تحویل
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
- کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
- کیا کرتے تھے تم تقریر ہم خاموش رہتے تھے
- بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ
- غالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہ
- خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے
- روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں
- کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
- کیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے
- تین نثروں سے کام کیا نکلے
- ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام
- تجھ کو کیا پایہ روشناسی کا
- مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
- اور کے لین دین سے کیا کام
- کیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- برق کو دے رہا ہے کیا الزام
- جس نے برباد کیا ریشۂ چندیں شب تار
- تھی نظر بندی کیا جب رد سحر
- لڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- کیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
- نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے
- اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو
- رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو
- مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے
- مجھ سے پوچھو تمہیں خبر کیا ہے
- آم کے آگے نیشکر کیا ہے
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
- خوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا
- ہماری زندگی کیا اور ہم کیا
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں
- پوچھے ہے کیا معاش جگر تفتگان عشق
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- واہ کیا خوب بر محل پہنچا
- کوئی اس کا جواب کیا لکھتا
- لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا
- چہ کے معنی کیا چگویم کیا کہوں
- کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں
- کیا کہیں کھائی ہے حافظ جی کی مار
- اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات
- مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی
- شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب