کی
673 Misre
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- اگر گل حسن و الفت کی بہم جوشیدنی جانے
- بہار اس کی کف مشاطہ میں بالیدنی جانے
- مژہ پیچک میں مہ کی سوزن آسا چیدنی جانے
- صدف کی ہے ترے نقش قدم میں کیفیت
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- وگر نہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- شکست رنگ کی لائی سحر شب سنبل
- اسدؔ یہ فرط غم نے کی تلف کیفیت شادی
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہوجاوے
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- اسدؔ قدرت سے حیدر کی ہوئی ہر گبر و ترسا کو
- نور سے تیرے ہے اس کی روشنی
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- ہے شفق سوز جگر کی آگ کی بالیدگی
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- نگہ کی ہم نے پیدا رشتۂ ربط علائق سے
- رخسار یار کی جو کھلی جلوہ گستری
- بیداد انتظار کی طاقت نہ لا سکی
- آنسو کی بوند گوہر نایاب ہو گئی
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- لب عیسی کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- ناحق کی حجتیں نہ مری جاں نکالیے
- اسدؔ ہے آج مژگان تماشا کی حنا بندی
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- امواج کی جو یہ شکنیں آشکار ہیں
- وگر نہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں تعبیریں
- بتان شوخ کی تمکین بعد از قتل کی حیرت
- سمجھتا ہوں تپش کو الفت قاتل کی تاثیریں
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- دل کی صداے شکست ساز طرب ہے اسدؔ
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- تیرگی سے داغ کی مہ سیم مس اندودہ ہے
- کیا کہوں پرواز کی آوارگی کی کشمکش
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- دیکھ لی جوش جوانی کی ترقی بھی کہ اب
- تو بتے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- زبان شانہ سے تعبیر صد خواب پریشاں کی
- سیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی
- کہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
- کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
- کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
- بس اے زخم جگر اب دیکھ لی شورش نمکداں کی
- چھپاؤں کیونکے غالبؔ سوزشیں داغ نمایاں کی
- شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
- غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- ہے مشق اسدؔ دستگہ وصل کی منظور
- دیکھ کر بادہ پرستوں کی دل افسردگیاں
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- خشکی مے نے تلف کی مے کدے کی آبرو
- وام لیتے ہیں پر پرواز پیراہن کی بو
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- اب ہے دلی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- تھا حریر سنگ سے قطع کفن کی فکر میں
- ہوں سپند آسا وداع انجمن کی فکر میں
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- رنگ کی گرمی ہے تاراج چمن کی فکر میں
- شوخی سوزن ہے ساماں پیرہن کی فکر میں
- مغز سر خواب پریشاں ہے سخن کی فکر میں
- برگ برگ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں
- پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- ہوا داماندگی سے رہرواں کی فرق منزل کا
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- نہ حیرت چشم ساقی کی نہ صحبت دور ساغر کی
- اٹھاوے کب وہ جان شرم تہمت قتل عاشق کی
- نہ پھولو ریزش اعداد کی قطرہ فشانی پر
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- تراوش شیرۂ انگور کی ہے مفت افشردن
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
- دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- لکھے کیفیت اس سطر تبسم کی عبارت کی
- عصاے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
- نہیں ریزش عرق کی اب اسے ذوبان اعضا ہے
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
- نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی
- مدح سے ممدوح کی دیکھی شکوہ
- پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کی
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- ہے جو آبی پیرہن ہر موج رود نیل کی
- آج تنخواہ شکستن ہے کلہ جبریل کی
- وہ فرنگی زادہ کھاتا ہے قسم انجیل کی
- کھینچتا ہوں اپنی آنکھوں میں سلائی نیل کی
- کیا سزا ہے میرے جرم آرزو تاویل کی
- پیری میں بھی کمی نہ ہوئی تاک جھانک کی
- روزن کی طرح دید کا آزار رہ گیا
- وہ مرغ ہے خزاں کی صعوبت سے بے خبر
- تیشے کی کوہسار میں ہے یک صدا گرو
- مطلب ہے ربط سے رگ و پے کی خمیدگی
- تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- کی متصل ستارہ شماری میں عمر صرف
- کچھ نہ کی اپنے جنون نارا سنے ورنہ یاں
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- گرچہ خدا کی یاد ہے کلفت ماسوا سمجھ
- سوختگاں کی خاک میں ریزش نقش داغ ہے
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- نقاب یار غفلت نگاہی اہل بینش کی
- فکر نے سونپی خموشی کی گریبانی مجھے
- برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
- اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
- کثرت جوش سویدا سے نہیں تل کی جگہ
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- دیوانگی اسدؔ کی حسرت کش طرب ہے
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- اے حسرت بسیار تمنا کی کمی ہے
- میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
- کس کی حاجت روا کرے کوئی
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
- لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- ہو فشار ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
- بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکست
- گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجے
- گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
- جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
- نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
- وگرنہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- سختی کشان عشق کی پوچھے ہے کیا خبر
- لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
- اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
- لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
- چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
- اہل تدبیر کی واماندگیاں
- ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع
- مہ اختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے
- سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- طوطی کی طرح آئنہ گفتار میں آوے
- کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
- پچ آ پڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
- لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
- یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
- خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
- اتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- نمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی
- ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- پریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی
- نہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی
- خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
- فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- دریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی
- حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
- تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
- تھا میں گلدستۂ احباب کی بندش کی گیاہ
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے
- قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے
- جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- نسیم مصر کو کیا پیر کنعاں کی ہوا خواہی
- اسے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے
- شکیب و صبر اہل انجمن کی آزمائش ہے
- غرض شست بت ناوک فگن کی آزمائش ہے
- وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
- مگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے
- ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
- نئے فتنوں میں اب چرخ کہن کی آزمائش ہے
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہو جاوے
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- ہے خبر گرم ان کے آنے کی
- کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
- وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
- ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
- عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
- دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
- آخر اس درد کی دوا کیا ہے
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- اور درویش کی صدا کیا ہے
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
- کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
- دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشی
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
- عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
- پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- نشاط داغ غم عشق کی بہار نہ پوچھ
- آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
- نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
- اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
- لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
- کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد
- اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
- قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
- نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا
- تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
- لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر
- کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
- طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
- شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
- سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
- ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
- یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
- شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
- نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
- لکھی یاروں کی بد مستی نے میخانے کی پامالی
- داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
- غم زمانہ نے جھاڑی نشاط عشق کی مستی
- خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا
- قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
- ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
- دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
- آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
- ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
- قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
- ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
- اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
- ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
- مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- پاداش عمل کی طمع خام بہت ہے
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
- اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
- قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
- لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- پھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیں
- ہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- رکھ لیجو میرے دعوی وارستگی کی شرم
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
- ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہ
- آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
- دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
- پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
- کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
- گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
- آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
- اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
- تو بنے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
- مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے
- نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
- مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
- اگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی
- ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
- یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
- ڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- میں ہوں اپنی شکست کی آواز
- ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
- نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
- بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
- فزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میں
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ ولیکن ناچار
- لائی ہے معتمد الدولہ بہادر کی امید
- سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
- غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
- دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت
- ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
- زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
- آج پھر اس کی روبکاری ہے
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- موئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
- منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
- ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
- آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
- نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے
- خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
- بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
- ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
- کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
- ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
- جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
- ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
- رفوئے زخم سے مطلب ہے لذت زخم سوزن کی
- نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی
- وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
- پُر ہے ساے کی طرح میرا شبستاں مجھ سے
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
- ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
- مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- شکست شیشۂ دل کی صدا کیا
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیے
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
- یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
- رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- تاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر
- تاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل
- تیری دانش مری اصلاح مفاسد کی رہین
- تیری بخشش مرے انجاح مقاصد کی کفیل
- تیرا اقبال ترحم مرے جینے کی نوید
- تیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل
- در معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھی
- غم گیتی سے مرا سینہ عمر کی زنبیل
- کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
- دھوپ کی یابش آگ کی گرمی
- رسم ہے مردے کی چھ ماہی ایک
- اور رہتی ہے سود کی تکرار
- رزم کی داستان گر سنیے
- ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
- گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری
- گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم
- عاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی
- مسٹر کوان صاحب عالی مقام کی
- رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند
- زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی رات
- ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں
- رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر
- جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیں
- ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے
- ہوئی جب میرزا جعفر کی شادی
- کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے
- افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
- آب و تاب انطباع کی پائی
- ایسی رونق ہوئی برات کی رات
- صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر
- خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے
- سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
- روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
- کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- نثر اس کی ہے کارنامۂ راز
- نظم اس کی نگار نامۂ راز
- ہو سخن کی جسے طلب گاری
- کرے اس نسخے کی خریداری
- نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے
- مجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
- اسے فضائل علم و ہنر کی افزایش
- صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں
- ان کو لڑیاں نہ کہو بحر کی موجیں سمجھو
- رخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمک
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- رم آہو کو ہے ہر ذرے کی چشمک میں کمیں
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- رنگ عاشق کی طرح رونق بت خانۂ چیں
- وصف دلدل ہے مرے مطلع ثانی کی بہار
- جنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا
- غالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- انھیں کی سال گرہ کے لیے سال بسال
- کہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ
- انھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہے
- انھیں کی سالگرہ کی یہ شادمانی ہے
- انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر
- لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
- ہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک
- پھر غزل کی روش پہ چل نکلا
- تیرے فیل گراں جسد کی صدا
- کاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام
- ستر برس کی عمر میں یہ داغ جانگداز
- تھی جنوری مہینے کی تاریخ تیرہویں
- عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
- ہے بندے کو اعادۂ عزت کی آرزو
- نیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
- وہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کی
- وہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ
- دراز اس کی ہو عمر اس قدر سخن کوتاہ
- سو اس اکیس دن میں ہولی کی
- جن کی مسند کا آسماں گوشہ
- جن کی خاتم کا آفتاب نگیں
- جن کی دیوار قصر کے نیچے
- دہر میں اس طرح کی بزم سرور
- فوج کی گرد راہ مشک فشاں
- اور داغ آپ کی غلامی کا
- آپ کی مدح اور میرا منھ
- پیری و نیستی خدا کی پناہ
- ہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں
- سبز ہے جام زمرد کی طرح داغ پلنگ
- کھینچے گر مانی اندیشہ چمن کی تصویر
- اس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار
- لعل سی کی ہے پئے زمزمہ مدحت شاہ
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- وہ شہنشاہ کہ جس کی پئے تعمیر سرا
- واں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرکاہ
- گرد اس دشت کی امید کو احرام بہار
- شعلہ تحریر سے اس برق کی ہے کلک قضا
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- وہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمود
- وہ کہ جس کی صورت تکوین میں
- روشناسوں کی جہاں فہرست ہے
- نقش پا کی صورتیں وہ دلفریب
- باغ معنی کی دکھاؤں گا بہار
- ہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
- عشاق کی پرسش سے اسے عار نہیں
- آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمایش
- ثاقب حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
- فیروزے کی تسبیح کے ہیں یہ دیوانے
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
- خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد
- جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
- نہ ہونے پر ہیں یہ باتیں دہن کی
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- گاتی تھیں شمرو کی بیگم تناہا یاہو
- حالت ترے عاشق کی یہ اب آن بنی ہے
- ان کی تاریخ میرا تاریخا
- جور زلف کی تقریر پیچ تاب خاموشی
- خوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا
- پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
- صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی
- تحریر ہے یہ غالبؔ یزداں پرست کی
- تاریخ اس کی آج نویں ہے اگست کی
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی
- کی تصور نے بہ صحرائے ہوس راہ غلط
- جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
- تیغ کی ہندی اگر تلوار ہے
- فارسی پگڑی کی بھی دستار ہے
- ساق پنڈلی فارسی مٹھی کی مشت
- کان کی لو نرمہ ہے اے مہربان
- آنکھ کی پتلی کو کہیے مردمک
- فارسی چھینکے کی تو آونگ جان
- شمس سورج اور شعاع اس کی کرن
- تابہ ہے بھائی توے کی فارسی
- اور تیہو ہے لوئی کی فارسی
- سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس
- دوش کل کی رات اور امروز آج
- عاجل اور آروغ کی ہندی ڈکار
- گر دریچہ فارسی کھڑکی کی ہے
- سرزنش بھی فارسی جھڑکی کی ہے
- ہے کہانی کی فسانہ فارسی
- اور شعلے کی زبانہ فارسی
- ہے گزرنے کی گذشتن فارسی
- اور پھرنے کی ہے گشتن فارسی
- دوڑنے کی فارسی ہے تاختن
- کھیلنے کی فارسی ہے باختن
- کاتنے کی فارسی رشتن بھی ہے
- ہے ٹپکنے کی چکیدن فارسی
- اور سننے کی شنیدن فارسی
- اور یسیدن کی ہندی چاٹنا
- ڈالنے کی فارسی انداختن
- کھینچنے کی ہے کشیدن فارسی
- اور اگنے کی دمیدن فارسی
- شہر میں چھڑیوں کے میلے کی ہے بھیڑ
- کاٹ اپنی کاٹھ کی تلوار کا
- فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ
- فارسی بینگن کی باذنجان ہے
- جس طرح گہنے کی زیور فارسی
- اس طرح ہنسلی کی پرگر فارسی
- بھڑ کی بھائی فارسی زنبور ہے
- اور ہے کنگھے کی شانہ فارسی
- روئی کی پونی کا ہے پاغند نام
- علم سے ہی قدر ہے انسان کی
- کیا کہیں کھائی ہے حافظ جی کی مار
- مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب
- ہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طرب
- جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر