کہیے
38 Misre
- اسدؔ طرز عروج اضطراب دل کو کیا کہیے
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- جو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے
- کہیں مصیبت ناسازیٔ دوا کہیے
- کبھی حکایت صبر گریز پا کہیے
- کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
- روانیٔ روش و مستیٔ ادا کہیے
- طراوت چمن و خوبیٔ ہوا کہیے
- خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
- حرز بازوے شگرفان خود آرا کہیے
- داغ طرف جگر عاشق شیدا کہیے
- سر پستان پریزاد سے مانا کہیے
- خال مشکین رخ دلکش لیلا کہیے
- نافہ آہوے بیابان ختن کا کہیے
- رنگ میں سبزۂ نوخیز مسیحا کہیے
- میکدے میں اسے خشت خم صہبا کہیے
- کیوں اسے نقطۂ پرکار تمنا کہیے
- کیوں اسے مردمک دیدۂ عنقا کہیے
- کیوں اسے نقش پئے ناقۂ سلما کہیے
- اور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- آنکھ کی پتلی کو کہیے مردمک
- پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل
- دیگداں چولہا جسے کہیے اجاغ
- سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس
- سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ
- جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے
- جو نئی ہو چیز اسے کہیے جدید
- جس کو جھولی کہیے وہ زنبیل ہے