کہیں
84 Misre
- کعبے میں جارہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
- وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
- افسون انتظار تمنا کہیں جسے
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے
- صبح بہار پنبۂ مینا کہیں جسے
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- مژگان کوہکن رگ خارا کہیں جسے
- زخم فراق خندۂ بیجا کہیں جسے
- کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
- کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
- میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
- جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- سبزہ کو جب کہیں جگہ نہ ملی
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- کہیں حقیقت جاں کاہیٔ مرض لکھیے
- کہیں مصیبت ناسازیٔ دوا کہیے
- نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- کیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے
- سجدہ تمثال وہ آئینہ کہیں جس کو جبیں
- قطع ہوجائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں
- مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام
- آسماں کو کہا گیا کہ کہیں
- وہ مہرباں ہو تو انجم کہیں الٰہی شکر
- جمع ہرگز ہوے نہ ہونگے کہیں
- کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ
- سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- کہو کہ خامس آل عبا کہیں اس کو
- کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
- اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو
- کہ شمع انجمن کبریا کہیں اس کو
- اگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو
- شہید تشنہ لب کربلا کہیں اس کو
- کہ جن و انس و ملک سب بجا کہیں اس کو
- بقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- مگر نبی و علی مرحبا کہیں اس کو
- پس از حسین علی پیشوا کہیں اس کو
- کہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو
- پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- برا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- مفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں
- کرتا ہے گل جنون تماشا کہیں جسے
- گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
- گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف
- ہے وہی کژدم جسے عقرب کہیں
- نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں
- مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے
- جس کو نقارا کہیں وہ کوس ہے
- وہ سرودن ہے جسے گانا کہیں
- ہے وہ آوردن جسے لانا کہیں
- دوک تکلے کو کہیں گے لا کلام
- کیا کہیں کھائی ہے حافظ جی کی مار